Header Ads Widget

Responsive Advertisement

امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر موجودگی کم کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج خطے میں حوثیوں کی جانب سے جاری خطرات اور ایران کی طرف سے براہِ راست دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات پر اپنی فوجی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے استفسار پر بتایا ”ہم مشن کے لیے اپنی تیاری کو بہتر بنانے کی غرض سے امریکی فوجی اہلکاروں اور وسائل کو باقاعدگی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں۔ آپریشنل سیکیورٹی کے تقاضوں کے پیشِ نظر ہم ان سے متعلق نقل و حرکت پر بات نہیں کرتے۔ امریکی افواج پورے خطے میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔“

دوسری طرف امریکی محکمۂ خارجہ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

امریکا کا سفارتی عملے اور اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے کئی سفارت خانوں نے ”محدود آپریشنز“ کی حیثیت کے تحت اپنے عملے کی تعداد میں ردوبدل کیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی جانب سے اگست میں ایران کے ساتھ جنگ میں شدت آنے کے دوران متعارف کرائی گئی یہ حیثیت سفارت خانوں کو اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کیے بغیر عملے اور خدمات میں کمی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

دریں اثنا، خطے میں امریکی سفارت خانوں کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/FQmxoC9

Post a Comment

0 Comments