واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 32 دیگر کو زخمی کرنے والے سابق امریکی فوجی میجر نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، نضال حسن کو طے شدہ شیڈول کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، تاہم اس کارروائی کو اب ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ ان کے خیال میں سزائے موت کی براہِ راست نشریات دنیا کو یہ دکھانے کے لیے ایک مؤثر مثال بن سکتی تھیں کہ امریکا دہشت گردی کے مرتکب افراد کے ساتھ کس طرح نمٹتا ہے، تاہم بہت سے اچھے اور نیک نیت لوگ کسی شخص کو مرتے ہوئے براہِ راست دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ نشریات منسوخ ہونے کے باوجود سزائے موت پر عمل درآمد مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے قریبی اہلِ خانہ کو، اگر وہ چاہیں، تو سزائے موت کی کارروائی ذاتی طور پر دیکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
صدر نے اپنے بیان میں متاثرین کے خاندانوں کے حقِ انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انصاف ہوتا ہوا دیکھیں۔
پینٹاگون کے فیصلے پر تنقید اور سیاسی دباؤ:
ٹرمپ کی جانب سے فیصلہ تبدیل کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کے منصوبے پر امریکی سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں، انسانی حقوق کے حامیوں اور حملے میں بچ جانے والے افراد کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ 3 دسمبر کو ہونے والی سزائے موت کی کارروائی عوام کو براہِ راست دکھائی جائے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرح لوگوں کو یہ پیغام ملے گا کہ ایسے جرائم کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ تاہم، اس اعلان کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور اخلاقی بحث شروع ہوگئی۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن سمیت بعض ریپبلکن رہنماؤں نے بھی اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے۔ ان کا خدشہ تھا کہ سزائے موت کی ویڈیو دہشت گرد تنظیموں کے لیے پروپیگنڈے یا نئے افراد کو بھرتی کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ اگر کارروائی نشر کی گئی تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔
ان اعتراضات کے بعد وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر نظرثانی کی اطلاعات سامنے آئیں، اور بالآخر ٹرمپ نے نشریات نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
فورٹ ہُڈ حملہ: کیا ہوا تھا؟
نضال حسن امریکی فوج میں میجر اور فوجی ماہرِ نفسیات تھے۔ 5 نومبر 2009 کو ریاست ٹیکساس میں واقع فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ یہ امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے مہلک ترین فائرنگ کے واقعات میں سے ایک تھا۔
حسن کو 2013 میں فوجی عدالت نے قتل کی 13 اور اقدامِ قتل کی 32 دفعات میں مجرم قرار دیا اور سزائے موت سنائی۔ اب ان کی سزائے موت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے 3 دسمبر 2026 کو مقرر ہے۔
ایف بی آئی کی تحقیقات پر بھی اٹھے تھے سوالات:
فورٹ ہُڈ حملے کے بعد امریکی تحقیقاتی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ حملے سے پہلے حسن اور یمن میں مقیم شدت پسند عالم انور العولقی کے درمیان الیکٹرانک رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ایف بی آئی کے جائزے میں ان رابطوں کو اس وقت ایسا خطرہ نہیں سمجھا گیا تھا جس پر مزید کارروائی ضروری قرار دی جاتی۔ بعد ازاں اس معاملے کو انٹیلی جنس اداروں کی ممکنہ ناکامیوں میں شمار کیا گیا۔
متاثرین کے خاندانوں کو خصوصی اجازت:
صدر ٹرمپ کے مطابق، اگر متاثرین کے قریبی اہلِ خانہ چاہیں تو وہ سزائے موت کی کارروائی موقع پر موجود ہو کر دیکھ سکیں گے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کارروائی عام عوام کے لیے کھلی ہوگی یا اس کی ویڈیو نشر کی جائے گی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Z4Qr6Ph

0 Comments