تہران (15 جولائی 2026): ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت میں امریکی لاجسٹکس مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بدھ کی علی الصبح دعویٰ کیا کہ انھوں نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں امریکی فوج کے ایک لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر کو نشانہ بنایا، آئی آر جی سی نے کہا امریکی لاجسٹکس مرکز کو نصر 2 آپریشن کی چوتھی لہر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
Footage of an Iranian Shahed-136 attack drone slamming into a warehouse in Kuwait earlier this evening.
Strikes on both sides have grown from distinct waves to a steady drumbeat of attacks today as the Iran war reescalates. pic.twitter.com/U34jJnRyg9
— OSINTtechnical (@Osinttechnical) July 15, 2026
اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی جلتی ہوئی عمارت کا امریکی فوج سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ سی این این نے اس دعوے پر امریکی سینٹرل کمانڈ سے مؤقف طلب کیا ہے۔
سی این این کی جانب سے اس ویڈیو کی جغرافیائی طور پر تصدیق کر دی گئی ہے، جس میں کویت کے مینا عبداللہ کے قریب ایک صنعتی علاقے میں پہلے سے جلتے ہوئے ایک گودام پر ایرانی ڈرون نے حملہ کیا، ویڈیو میں آسمان پر ایک ایسا ڈرون دکھائی دیتا ہے جو شاہد ڈرون سے مشابہ ہے۔
ایران پر مسلسل چوتھی رات 7 گھنٹے تک امریکی بمباری
ڈرون جلتے ہوئے گودام کی جانب بڑھتا ہے، اس سے ٹکراتا ہے اور اس کے بعد ایک بڑا دھماکا ہوتا ہے۔ ویڈیو میں حملے سے پہلے تک وہ مخصوص آواز بھی سنائی دیتی ہے جو عموماً شاہد ڈرون سے منسوب کی جاتی ہے۔ ویڈیو کے مطابق دھماکے کے وقت امدادی عملہ پہلے سے لگی آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اردن میں ایف 18 طیاروں کے ٹھکانوں پر حملہ
دوسری طرف ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق، ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ارنا کے مطابق ایرانی حملہ آور ڈرونز نے آپریشن صاعقہ کے آٹھویں مرحلے میں اس مقام پر حملہ کیا جہاں ایف-18 لڑاکا طیارے موجود تھے، ساتھ ہی رہائشی عمارت اور ایک بڑے آلات کے ہینگر کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ارنا کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوج کے زیرِ استعمال تھا۔ تاہم سی این این کا کہنا ہے کہ ایف-18 لڑاکا طیارے عموماً طیارہ بردار بحری جہازوں پر تعینات ہوتے ہیں، نہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے زمینی فوجی اڈوں پر۔
ایران کی فوج اور سرکاری میڈیا اس سے قبل بھی امریکی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے کئی دعوے کر چکے ہیں، جن میں سے متعدد بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ ایران گزشتہ ہفتے بھی الازرق ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جہاں اس نے ایف-35 طیاروں کے ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکی مفادات پر ایران کے یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی افواج کویت کو ایران کے مسلسل جوابی حملوں سے بچانے میں مدد دے رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکا نے اپنے محدود ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام بھی استعمال کیا۔ ادھر کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایرانی حملے میں کویتی بحریہ کے ایک جہاز پر حملہ ہوا، جس میں مسلح افواج کے 4 اہلکار زخمی ہوئے۔
ایران نے منگل کو بحرین پر بھی متعدد حملے کیے، جس کے باعث کئی مرتبہ سائرن بجائے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی بغیر پائلٹ کشتیوں کے کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Yjvi41D

0 Comments