واشنگٹن (15 جولائی 2026): امریکی فوج نے ایران پر مسلسل چوتھی رات فضائی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز سمیت ساحلی علاقوں میں درجنوں ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے 7 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظاموں پر انتہائی درست ہتھیاروں سے حملے کیے۔

یہ کارروائی امریکی وقت کے مطابق رات 10 بجے کی گئی، سینٹکام نے ایکس (X) پر لکھا کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی تجارتی بحری جہازوں اور ان کے شہری عملے کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔

یہ مسلسل چوتھی رات ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف فضائی و عسکری حملے کیے ہیں۔ آج اس سے قبل امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور وہاں سے جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی۔


ٹرمپ نے نیتن یاہو کو شام اور لبنان سے فوج واپس بلانے کہہ دیا


سینٹکام نے اعلامیے میں کہا امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد یہ فضائی کارروائی کی گئی، آبنائے ہرمز میں امریکی افواج چوکس اور مؤثر کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی بمباری سے عراق کی سرحد کے قریب ضلع دہلوران میں واقع معدنی پانی کی پیداوار کے مرکز پر تین میزائل آ کر گرے، جس پانی کی بوتلیں تیار کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا، بدھ کی علی الصبح ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فیکٹری کا ساز و سامان متاثر ہوا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/zaUb0Ys