تہران (15 جولائی 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کرتے ہوئے دشمن پر واضح کیا ہے کہ ایران اپنے شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لے گا، دشمن ایرانی عوام میں مایوسی، خوف اور اختلاف پیدا کرنا چاہتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ہماری طاقت عوام کی حمایت اور میدان میں حاصل قوت کا نتیجہ ہے، جنگ یا مذاکرات کا فیصلہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے، جنگ اور سفارتکاری اختیار کرنے کا فیصلہ رہبرِ انقلاب کی ہدایات کے مطابق ہوگا، زندگی دشمن کے خلاف جدوجہد میں گزاری، جنگ یا دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ملک کے جنوبی علاقوں کے عوام ایران کی جان ہیں ان پر جان بھی قربان ہے، دشمن کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے، ان جرائم کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، مذاکرات ہرگز ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں، یہ مزاحمت کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اب بھی نہیں سمجھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے، قالیباف
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ اور سفارتکاری دونوں قومی مفادات کے تحفظ کے ذرائع ہیں، فوجی طاقت اور سفارت کاری میں ہم آہنگی ضروری ہے، ہماری قومی سلامتی ہرمز میں ایرانی انتظامی و دفاعی کردار کے تحفظ سے وابستہ ہے، دشمن زور کے ذریعے آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار کو کمزور کرنا چاہتا ہے، ایران دشمن کی مرضی مسلط کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائے گا، میدان اور سفارت کاری کو الگ کرنا ایک اسٹریٹجک غلطی ہے۔
’مفاہمتی معاہدے کی پابندی اسی وقت ہوگی جب عملدرآمد اور ایران کو فائدہ حاصل ہو۔ اگر ایران کو کسی معاہدے سے فائدہ نہ ملا تو اس کی پابندی کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہر وقت دفاع کیلیے تیار رہنا ہوگا۔ قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کیلیے آخری حد تک کھڑے رہیں گے۔ سفارت کاری اور مذاکرات سے بھی قومی مفادات کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔‘
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/VxMq04b

0 Comments