نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو ہندوستان واپس آکر دہلی میں پرامن احتجاج شروع کریں گے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی تنازعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔
دپکے کا دعویٰ ہے کہ ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ امتحانی بے ضابطگیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں دپکے نے طلبہ، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔ ان کے مطابق سمیت مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات نے ایک کروڑ سے زیادہ امیدواروں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔
دپکے نے الزام لگایا کہ امتحانی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ کی محنت ضائع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پیپر لیک کے باعث طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، بعض نے خودکشی تک کی، اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا۔ ایسی صورتحال میں کسی نہ کسی کو ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔
یہ پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت کے پیچھے کس طاقت کا ہاتھ ہے؟ دھرو راٹھی نے بتا دیا
دپکے کے مطابق اگر اتنی بڑی سطح پر ہونے والی مبینہ ناکامیوں کے باوجود بھی کوئی احتساب نہ ہو تو اس سے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ بار بار غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جبکہ ذمہ دار اداروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ 6 جون کو دہلی پہنچنے کے بعد جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم اسی حق کے تحت اپنی آواز بلند کریں گے۔‘‘
دپکے نے اس خدشے کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگ ان کی ممکنہ گرفتاری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ انہیں جمہوری انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی تھی، لیکن انہوں نے بیرون ملک قیام کے بجائے ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/jKXBpD5

0 Comments