ہانگ کانگ : مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جس نے دنیا بھر کی ایئر لائنز کمپنیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے فضائی صنعت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایئر لائنز کمپنیوں کے شیئرز گرگئے جبکہ ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ایک موقع پر برینٹ خام تیل کے فیوچر کی قیمت میں 29 فیصد تک اضافہ بھی دیکھا گیا۔
اس حوالے سے خدشہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے سپلائی میں کمی اور سمندری راستوں میں تعطل عالمی منڈی کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے آغاز کے بعد سے بعض مقامات پر جیٹ فیول کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں، جس سے ایئر لائنز پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث فضائی حدود محدود ہونے سے پائلٹس کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ ہزاروں مسافر خطے سے نکلنے کی کوشش میں ایئر پورٹس پر ہی پھنسے ہوئے ہیں۔
نتیجتاً بعض فضائی روٹس پر ٹکٹوں کی قیمتیں ایک ہفتے پہلے کے مقابلے میں سات گنا تک بڑھ چکی ہیں۔
جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد صورتحال بہتر نہ ہوئی تو دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کو ہزاروں طیارے گراؤنڈ کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے جبکہ مالی طور پر کمزور ایئرلائنز اپنے آپریشن بھی معطل کرسکتی ہیں۔
ایشیا میں فضائی کمپنیوں کے شیئرز شدید دباؤ کا شکار رہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں کورین ایئر لائنز شامل ہے جس کے شیئرز میں 8.6 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ایئر نیوزی لینڈ کے شیئرز 7.8فیصد اور ہانگ کانگ کی کیتھے پیسیفک کے شیئرز 5 فیصد تک گرگئے۔
یورپ میں بھی صورتحال مختلف نہیں رہی۔ ایئر فرانس کے ایل ایم، برٹش ایئرویز کی مالک کمپنی آئی اے جی، وِز ایئر اور لفتھانسا کے شیئرز صبح کی ٹریڈنگ کے دوران 2.5 فیصد سے 6 فیصد تک گرگئے۔
امریکہ میں بڑی فضائی کمپنیوں کے شیئرز بھی دوپہر کی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 سے 5 فیصد تک نیچے آ گئے۔ جیٹ بلیو ایئرویز کے شیئرز 5.35 فیصد جبکہ امریکن ایئرلائنز کے شیئرز 3.44 فیصد تک گر گئے۔
دوسری جانب مسافروں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوتی جارہی ہے کیونکہ ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر کورین ایئر لائنز کی سیئول سے لندن جانے والی براہِ راست پرواز کا کرایہ 11 مارچ کے لیے 564 ڈالر سے بڑھ کر 4 ہزار359 ڈالر تک پہنچ گیا، جو صرف ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
اسی طرح لاطام ایئرلائنز کی لاس اینجلس سے لیما جانے والی پرواز کا کرایہ 499 ڈالر سے بڑھ کر 2ہزار125 ڈالر ہوگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایئر کینیڈا کی نیوارک سے کیوبیک سٹی جانے والی یک طرفہ پرواز کا کرایہ بھی ایک ہفتے کے دوران تقریباً تین گنا بڑھ کر 1,499 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/BQZ8yh2

0 Comments