Header Ads Widget

Responsive Advertisement

وہ 9 طریقے جن سے ٹرمپ انتظامیہ مڈ ٹرم الیکشن میں مداخلت کر سکتی ہے

واشنگٹن: روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انتخابی حکام اور قانونی ماہرین کو خدشات لا حق ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈ ٹرم الیکشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے متعدد ایسے طریقے ہیں جو بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔

روئٹرز نے انتخابی منتظمین اور قانونی ماہرین سے دریافت کیا کہ انھیں انتخابات کے دن سے پہلے اور اس کے بعد کن ممکنہ واقعات کا خدشہ ہے۔ اگرچہ بہت سے عہدے داروں نے اپنی اپنی ریاستوں اور کاؤنٹیوں میں انتخابات کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا، تاہم انھوں نے خطرات کی ایک وسیع فہرست کی نشان دہی بھی کی۔

ان طریقوں میں وفاقی حکام کی جانب سے بیلٹ پیپرز اور ووٹنگ کے آلات کو اپنی تحویل میں لینا، فوجیوں کی تعیناتی، پولنگ مراکز کے قریب امیگریشن کے چھاپے، اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنا شامل ہیں۔

دھاندلی


امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ہونے والے آئندہ وسط مدتی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی خواہش کبھی پوشیدہ نہیں رکھی۔ انھوں نے ری پبلکنز پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ کو ’’قومی سطح پر مرکزی کنٹرول کے تحت‘‘ لے آئیں۔

انھوں نے ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ پیپرز پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، اور انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کی تحقیقات کے لیے ایسے وفاقی اداروں کو متحرک کیا جنھیں پہلے ہی ناقابلِ اعتبار قرار دیا جا چکا ہے۔

ستمبر میں ری پبلکن پارٹی کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ’’بھرپور طریقے سے دھاندلی کریں‘‘، خواہ وہ ’’ووٹ دینے کے لیے رجسٹرڈ ہوں یا نہ ہوں‘‘۔

ممکنہ طریقے


یہ تمام باتیں ایک سوال کو جنم دیتی ہیں: اگر ٹرمپ اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانا چاہیں تو کیا صدر انتخابات میں خلل ڈال سکتے ہیں؟ اور وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے روئٹرز نے انتخابی عہدے داروں، ووٹنگ کے ماہرین اور انتخابی قوانین کے وکلا سمیت 50 سے زائد افراد کے انٹرویو کیے، اور ٹرمپ کے عوامی بیانات، عدالتوں میں دائر کی گئی دستاویزات اور وفاقی اداروں کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ ان کے تجزیوں سے کئی ممکنہ صورتِ حال سامنے آتی ہیں۔

نیٹ فلکس نے ایک ہزار ملازمین کو برطرف کردیا

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے وفاقی اور ریاستی اختیارات کا تنازع سنگین ہو سکتا ہے، وفاقی حکام بیلٹ پیپرز اور ووٹنگ آلات کو تحویل میں لینے کی کوشش کر سکتے ہیں، ڈاک ووٹنگ کو محدود کرنے کی کوششیں قانونی تنازع کو مزید بڑھا سکتی ہیں، پولنگ اسٹیشن پر فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی اور امیگریشن چھاپوں کا خدشہ ہے۔ صدر ٹرمپ انتخابی نظام پر وفاقی حکومت کا زیادہ کنٹرول چاہتے ہیں، جب کہ امریکی آئین کے تحت انتخابات کے انتظام میں ریاستوں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

1: ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیاں: ڈاک کے ذریعے بیلٹ پیپر بھیجنے یا ان کے استعمال کو محدود کرنے کی کوششیں۔

2: ووٹروں کا حساس ڈیٹا حاصل کرنا: ووٹروں کے اندراج کے خفیہ ریکارڈ تک وفاقی حکومت کی رسائی حاصل کرنے کی کوشش۔

3: انتخابی دفاتر کی تحقیقات: انتخابی عملے اور دفاتر کے خلاف تحقیقات شروع کرنا، خصوصاً ان ریاستوں میں جہاں مقابلہ سخت ہو۔

4: ووٹروں کی شہریت اور شناخت سے متعلق سخت شرائط: ووٹ کے اندراج کے لیے شہریت کا ثبوت اور ووٹ ڈالتے وقت تصویر والی شناختی دستاویز لازمی قرار دینے کی کوشش۔

5: انتخابی دھاندلی کے الزامات پھیلانا: غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے، جعلی بیلٹ پیپرز، انتخابی کارکنوں کی جانب سے ردوبدل یا مشکوک ووٹوں کی گنتی کے غیر ثابت شدہ دعوے کرنا۔

6: ووٹنگ مشینوں کو مشکوک قرار دینا: مشینوں میں ردوبدل یا ان کی ناقابلِ اعتماد ہونے کے الزامات کی بنیاد پر ان پر پابندی لگانے اور دستی گنتی رائج کرنے کا مطالبہ۔

7: سائبر حملوں اور غیر ملکی مداخلت سے تحفظ کے پروگرام محدود کرنا: ایسے پروگراموں کو کمزور کرنا جن کا مقصد انتخابی نظام کو سائبر حملوں اور بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنا ہے۔

8: قانونی چارہ جوئی اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنا: انتخابی طریقۂ کار، ووٹوں کی گنتی یا نتائج کے خلاف قانونی اعتراضات اور تنازعات کھڑے کرنا۔

9: انتخابی نتائج کی توثیق میں خلل ڈالنا: تحقیقات، قانونی مقدمات اور ووٹنگ سے متعلق مسلسل تنازعات کے ذریعے نتائج کی باضابطہ توثیق میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا کرنا، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانا اور سخت مقابلے والے انتخابات کو انتشار سے دوچار کرنا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/5mPfBL6

Post a Comment

0 Comments