واشنگٹن/تہران (18 جولائی 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل ساتویں رات فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا۔ سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے نگرانی کے مراکز، عسکری لاجسٹکس اور زیرِ زمین ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جب کہ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئیں۔ سینٹ کام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی سختی سے نافذ ہے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں اور امریکی افواج ہر وقت چوکس اور مؤثر کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیج میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق پہلی بار شام میں بھی حملہ کیا گیا، اور امریکی فوج کے کمانڈ سینٹر کو ملیا میٹ کر دیا گیا، جب کہ کویت، قطر، اردن اور عمان میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران کے مکران ساحل پر چاہ بہار بندرگاہ کا کنٹرول ٹاور تباہ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے جنوبی ایرانی شہر اہواز پر میزائل حملہ کیا، جب کہ وسطی ایران کے شہر یزد میں پانچ دھماکے اور شہر سیرک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ادھر ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرِ ہند میں ایک امریکی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد امریکی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق متعلقہ ٹینکر نے آبنائے ہرمز میں ایرانی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی حملے کے دوران بندر خمیر پل عبور کرتے ہوئے 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے شہری بے گناہ تھے اور بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے ایک ایک انچ کا آخری سانس تک دفاع کرے گا اور ایرانی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/gW8j4x3

0 Comments