Header Ads Widget

Responsive Advertisement

امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ

واشنگٹن (18 جولائی 2026): امریکا اور کینیڈا تعلقات پھر کشیدہ ہو گئے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آلودگی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی، اور کہا کہ امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف اد ا کرنا ہوگا۔

روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کینیڈا کو جنگلاتی آگ کے دھویں کے امریکا میں پھیلنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس آلودگی سے نمٹنے پر آنے والی ’’ناقابلِ حساب لاگت‘‘ بھی کینیڈا کی اشیا پر پہلے سے عائد ٹیرف میں شامل کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں جنگلات کے سینکڑوں مختلف مقامات پر لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں امریکا پہنچ گیا ہے، اور اس نے جمعرات اور جمعہ کو امریکا کے مڈویسٹ سے شمال مشرقی علاقوں تک وسیع خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے والے ٹرمپ نے کہا کہ وہ کینیڈا کے رہنما سے رابطہ کریں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ وہ اس ’’قطعی ناقابلِ قبول‘‘ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


میکسیکو ساحل کے قریب 7.3 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری


ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ’’ہم کینیڈا کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ وہ اپنے جنگلات کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہا، اور امریکا پر غیر ضروری طور پر گندی، آلودہ اور صحت کے لیے نقصان دہ ہوا مسلط کی جا رہی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ’’یہ دانستہ کی گئی غفلت ہے، جو اب ہر سال کا معمول بن گئی ہے، اور اس سے امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس آلودگی کی لاگت لازماً ان ٹیرف میں شامل کی جانی چاہیے جو کینیڈا اس وقت ادا کر رہا ہے۔‘‘

کینیڈین حکام نے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکا کو دھمکی دینے کی بجائے مدد کرنی چاہیے، کیلیفورنیا میں روں سال آتش زدگی پر کینیڈا نے امریکا کو ہنگامی مدد فراہم کی تھی۔

کینیڈا کی وزیر برائے ہنگامی حالات ایلینور اولشوسکی نے کہا کہ حکومت نے 2020 سے اب تک جنگلاتی آگ کی روک تھام کے لیے 12 ارب کینیڈین ڈالر (تقریباً 8.56 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان سرحد کے دونوں جانب جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث حالیہ برسوں میں کینیڈا میں جنگلات زیادہ خشک ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کینیڈا دنیا کے وسیع ترین جنگلاتی علاقوں میں سے ایک کا حامل ملک ہے۔

برٹش کولمبیا کی تھامپسن ریورز یونیورسٹی میں جنگلاتی آگ کے ماہر پروفیسر مائیک فلینیگن نے کہا ’’جوں جوں ہماری آب و ہوا گرم ہو رہی ہے، ہم زیادہ شدید موسمی حالات دیکھ رہے ہیں، اور مستقبل میں جنگلاتی آگ کے واقعات بھی مزید بڑھیں گے۔‘‘

یاد رہے کہ 2025 میں منصب سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد صدر ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اہم اشیا پر ٹیرف عائد کر دیے تھے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/iMOrN7h

Post a Comment

0 Comments