واشنگٹن (08 جولائی 2026): امریکا نے ایران پر تیل فروخت کرنے کی پابندی دوبارہ عائد کر دی۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے پر ایران کے خلاف اقدام کیا گیا، امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے میں جہازوں پر حملوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
ایران امریکا مفاہمت کے تحت ایران کو 21 اگست تک تیل بیچنے کی اجازت تھی، جسے امریکا نے پابندی لگاتے ہوئے 17 جولائی تک محدود کر دیا۔ امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فی صد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادھر امریکا نے ایران میں مخصوص اہداف پر فضائی کارروائی کی ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف طاقت ور فضائی کارروائی کی گئی، حالیہ فوجی کارروائیاں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔
امریکا نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع کردیے
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر حملے کیے تھے، سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، جس کا مقصد آئندہ حملوں کی روک تھام ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایران کی کارروائیاں بلااشتعال، خطرناک اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/LavpQfE

0 Comments