اٹلی نے ایران کےخلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ اٹلی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دورا ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گا۔
میلونی نے انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ "ایران میں تنازع کے آغاز سے ہی ہماری ایک واضح لکیر رہی ہے … ہم ایران کے خلاف حملوں میں حصہ نہیں لیں گے۔”
مارچ میں، اٹلی نے مشرق وسطیٰ جانے والے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلا ایئر بیس پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکا اور ایران جنگ بندی کی طرف واپس آئیں، برطانوی وزیراعظم
ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میری جان خطرے میں ہے ایران کی ہٹ لسٹ میں میرا نام سرفہرست ہے۔
انقرہ میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا میں صدارت کا پیشہ سب سے زیادہ خطرناک ہے میں نے وہ کام کیے جو کوئی صدر نہیں کر سکا اس لیے ہٹ لسٹ پر ہوں، ایسے خطرات مجھے اپنے اقدامات سے نہیں روک سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ طویل جنگ نہیں چاہتے ایران نے بحری جہازوں پرحملہ کیا اور ہم نے جواب دیا، ہم ایران کو انہی کے زبان میں جواب دیتے ہیں ایران حملے کرتا ہے تو ہم 10گنا طاقتور جواب دیتے ہیں ایران سے متعلق جو بھی ہوگا جلدی ہو گا، طویل جنگ نہیں چاہتے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/azTBuyJ

0 Comments