اسلام آباد (15 جون 2026): امریکی اور ایرانی حکام نے اتوار کے روز کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے پر توانائی کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ذیل میں اس معاہدے پر عالمی ردِعمل پیش کیا جا رہا ہے:
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا:
’’سیکریٹری جنرل اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران ایک ایسے امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس میں فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے۔ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک نہایت اہم قدم ہے۔‘‘
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی (E4) کے رہنماؤں کا مشترکہ بیان:
’’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے ہم امریکا، ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی:
’’آسٹریلوی حکومت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ آسٹریلیا طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی اور لبنان سمیت تنازع کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے آئے ہیں، جتنی دیر یہ جنگ جاری رہے گی، اس کے اثرات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ مزید کشیدگی روکنے اور ایک دیرپا معاہدہ یقینی بنانے کے لیے مسلسل تحمل اور تعمیری رابطہ ناگزیر ہوگا۔‘‘
امریکا ایران امن معاہدہ طے پا گیا، شہباز شریف کا ایکس پر اعلان
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر:
’’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بلا رکاوٹ آزادی بحال ہونی چاہیے… ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔‘‘
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون:
’’میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہوں، جو ایک سفارتی کوشش کا نتیجہ ہے جس میں متعدد شراکت داروں نے حصہ لیا۔ میں تمام متحارب فریقوں سے اس کے فوری اور مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کی اجازت دے، جس کی حمایت کے لیے برطانیہ کے ساتھ قائم بین الاقوامی مشن تیار ہے۔‘‘
جرمن چانسلر فریڈرک مرز:
’’میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اس سفارتی پیش رفت پر صدر ٹرمپ اور ایرانی فریق کو مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دینے اور مشرقِ وسطیٰ کو زیادہ محفوظ بنانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس کا پختہ عزم کے ساتھ نفاذ نہایت اہم ہے۔‘‘
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی:
’’جاپان کو قوی امید ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آزاد اور محفوظ جہاز رانی عملاً یقینی بنائی جائے گی، اور ایران کے جوہری مسئلے سمیت دیگر امور پر حتمی معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔‘‘
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز:
’’یہ اہم اور تعمیری معاہدہ کشیدگی میں کمی اور ایسے خطے میں استحکام کے فروغ کی جانب ایک قدم ہے جو عالمی اقتصادی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے… مکالمہ اور سفارت کاری دیرینہ مسائل کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔‘‘
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/1HLTIWa

0 Comments