Header Ads Widget

Responsive Advertisement

اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس، ٹرمپ نے دنیا کے پرتعیش ترین طیارے کی رونمائی کر دی

میری لینڈ (20 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارے ایئر فورس ون کی رونمائی کر دی، قطر کی جانب سے ایئر فورس وَن طیارہ امریکی صدر کو تحفے میں دیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر اپنے نئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کر دی، جو انھیں قطر کی حکومت کی جانب سے تحفے میں دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ طیارہ 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سال گرہ کی تقریبات کے موقع پر واشنگٹن میں ایک خصوصی فضائی مظاہرے میں آزمائشی پرواز کرے گا۔

طیارے کو صدارتی بیڑے میں شامل کر لیا گیا ہے، نیا ایئر فورس ون پرانے 35 سال کے طیارے سے کہیں زیادہ بڑا ہے، یہ دنیا کا سب سے پُرتعیش طیارہ ہے، ٹرمپ نے کہا چوں کہ دیگر ممالک کے پاس جدید طیارے ہیں اس لیے امریکا کو بھی جدید طیارے کی ضرورت تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق طیارے میں سیکیورٹی اور تیکنکی تبدیلوں پر 90 کروڑ ڈالر کا خرچ آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں طیارے کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ تقریب کے دوران وہ طیارے سے باہر نکلے اور سیڑھیاں اتر کر میڈیا سے گفتگو کی۔ سرخ، سفید اور گہرے نیلے رنگوں پر مشتمل نئی رنگت کے ساتھ تیار کیا گیا یہ بوئنگ 747 طیارہ سابق ماڈل کے ہلکے نیلے رنگ سے مختلف ہے۔ یہ طیارہ ملک کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران صدر ٹرمپ کے زیر استعمال رہے گا۔

ٹرمپ نے خطاب میں کہا یہ طیارہ ایسا لگژری ہے کہ کسی نے دیکھا بھی نہیں ہوگا، اب اس لگژری طیارے پر دنیا بھر میں سفرکروں گا۔ اس طیارے کا کوئی مقابلہ نہیں، ہمارے ملک کے لیے بھی یہی معیار ہونا چاہیے، کوئی اس کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔ انھوں نے کہا ’’یہ ایک اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس ہوگا، ایسی آسائشوں کے ساتھ جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔‘‘

ٹرمپ نے اشارہ بھی دیا تھا کہ رواں ہفتے فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی کا سفر موجودہ صدارتی طیاروں کے بیڑے میں ان کا آخری سفر ہوگا۔

اس طیارے کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، تاہم اسے صدارتی استعمال کے قابل بنانے کے لیے امریکی حکومت ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ کر چکی ہے۔ قطری حکومت کی جانب سے اس طیارے کی فراہمی پر دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے حلقوں سے تنقید سامنے آئی تھی، جن کا کہنا تھا کہ یہ تحفہ نامناسب ہے اور اس سے سیکیورٹی اور اخلاقی نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق طیارے کی ازسرنو تیاری اور سیکیورٹی اپ گریڈز پر ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت آ سکتی ہے۔


آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 بحری جہاز گزر رہے ہیں، صدر ٹرمپ


اگرچہ یہ طیارہ صدر کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد اسے ان کی صدارتی لائبریری فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا۔

امریکی فضائیہ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ طیارہ ابتدائی کمیشننگ پروازوں کے لیے تیار ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صدر کو محفوظ انداز میں سفر کی سہولت فراہم کر سکتا ہے اور انھیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں معاونت دے سکتا ہے۔ فضائیہ کے مطابق VC-25B برج نامی یہ طیارہ اب ایک محفوظ اور خصوصی طور پر تبدیل شدہ ایگزیکٹو پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ طیارہ موجودہ صدارتی فضائی بیڑے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گا۔

واضح رہے کہ ’’ایئر فورس ون‘‘ دراصل اس طیارے کو کہا جاتا ہے جس میں امریکی صدر سفر کر رہے ہوں۔ اس وقت صدارتی سفر کے لیے دو دیگر بوئنگ 747 جمبو جیٹ طیارے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Zkmj6SQ

Post a Comment

0 Comments