واشنگٹن (5 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدہ ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات ہو جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایرانی سپریم لیڈر سے ملنا نہیں چاہتا لیکن ان سے ملاقات میں مجھے کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ اگر ملاقات ہوئی تو اعزاز کی بات ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ممکن ہے اور بہتر بھی یہی ہوگا کہ ڈیل ہونے کے بعد ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات ہو۔
انہوں نے کہا کہ میں ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا، سب بھی اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ بغیر کسی ڈیل کے بھی ایرانی یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم اسے ابھی حاصل کر سکتے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہمیں روک سکتے ہیں۔ ہم فوجی طاقت یا معاہدے کے ذریعے جیتیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہمارے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، ہمیں نیٹو کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردیا۔ اس کے تمام 159 جہاز سمندر کی تہہ میں ہیں۔ اب ایران کے پاس نہ کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی فوجی جنرلز ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جو کچھ ختم کر سکتے ہیں کر دیا، لیکن فیک نیوز جھوٹ بولتی ہے۔ ایران جنگ سے متعلق فیک نیوز کی خبروں کو دیکھیں تو حیران ہوتے ہیں۔ فیک نیوز کو ایران کے سمندر کی تہہ میں موجود جہازوں کو دیکھنا چاہیے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے نکات جلد سامنے آجائیں گے۔ معاہدے کے اہم ترین نکات یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ ہم خلا سے ایرانی جوہری مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں، جو بھی ایرانی جوہری مقامات کے قریب پہنچے گا ہم اس سے نمٹیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے قومی سلامتی کے معاملے پر اہم کام کیے ہیں۔ میں نے 8 جنگیں رکوائیں، اور مزید جنگیں بھی رکواؤں گا۔ مجھے نیشنل سیکیورٹی کا تجربہ ہے، ایک اور جنگ بھی روکنے جا رہا ہوں۔ یہ بہت اچھا ہوگا اگر یوکرین اور روس کے صدر ملاقات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے لبنان میں امن ہو جائے گا، اس سے متعلق نیتن یاہو اور حزب اللہ سے بات ہوئی ہے۔ لیکن اگر ایران ہمارے فوجیوں کو قتل کرے گا تو یہ جنگ کی طرف واپسی کی وجہ ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہندوستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے امریکا سے بہت فائدہ اٹھایا اور اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں، کیونکہ امریکا میں بے وقوف لوگ بیٹھے تھے، جس کی وجہ سے بھارت نے فائدہ اٹھایا۔ بھارت نے بہت ٹیرف لگائے اور یہاں کچھ بنایا بھی نہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/vQM376O

0 Comments