Header Ads Widget

Responsive Advertisement

پینٹاگون کی جانب سے جاری کئی دہائیوں پر محیط خلائی مخلوق کی خفیہ فائلوں میں کیا ہے؟

واشنگٹن (12 مئی 2026): امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کئی دہائیوں پر مشتمل اُن خفیہ دستاویزات کو عوام کے لیے جاری کر دیا ہے جن میں نامعلوم فضائی طشتریاں یا عام زبان میں UFOs سے متعلق حیران کن انکشافات شامل ہیں۔

ان ریکارڈز میں سرد جنگ کے دوران گھومتی ہوئی پراسرار طشتریوں، فضا میں معلق دھاتی بیضوی اشیا اور خلائی مشنز کے دوران غیر معمولی مشاہدات کی تفصیلات درج ہیں۔

پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے 160 سے زائد ریکارڈز جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’غیر معمولی شفافیت‘‘ کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ عوام کو وفاقی اور عسکری ریکارڈز تک رسائی دی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا تھا کہ اب عوام خود فیصلہ کریں کہ ’’آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟‘‘ انھوں نے عوام کو ان دستاویزات کا مطالعہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ برسوں تک خفیہ رکھی گئی یہ فائلیں عوامی قیاس آرائیوں کا باعث بنتی رہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود حقیقت دیکھیں۔ قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبرڈ نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے اور مزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔

جاری کردہ ریکارڈز میں 1969 کے تاریخی اپولو مون لینڈنگ مشن کا بھی ذکر موجود ہے۔ ایک دستاویز کے مطابق خلا باز بز الڈرین نے چاند کے سفر کے دوران تین غیر معمولی مشاہدات رپورٹ کیے تھے، جن میں چاند کی جانب جاتے ہوئے ایک پراسرار شے، خلائی کیبن کے اندر روشنی کی چمکی، اور واپسی پر ایک روشن روشنی کا مشاہدہ شامل تھا۔

سب سے قدیم دستاویز نومبر 1948 کی ہے، جسے امریکی فضائیہ کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے ’’ٹاپ سیکرٹ‘‘ قرار دیا تھا۔ اس رپورٹ میں یورپ کی فضاؤں میں بار بار نظر آنے والی نامعلوم اشیا کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے سویڈن کی انٹیلی جنس سروس سے بھی رابطہ کیا تھا، جہاں انہیں بتایا گیا کہ یہ مظاہر ’’ایسی اعلیٰ تکنیکی مہارت کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں جو زمین پر موجود کسی معروف تہذیب سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔‘‘

مزید حالیہ دستاویزات میں 2023 کے ایک واقعے کا بھی ذکر ہے، جس میں ایک خاتون نے، جو امریکی فوجی طیاروں اور ڈرونز کے بارے میں وسیع تجربہ رکھتی تھیں، ایک دھاتی بیضوی شے کو درختوں کے اوپر معلق دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شے پانچ سے دس سیکنڈ تک نظر آنے کے بعد اچانک غائب ہو گئی۔ اس واقعے کی تصدیق کم از کم دو گاڑیوں میں موجود کئی افراد نے بھی کی۔

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ UFO واقعات رپورٹ کرنے والے افراد کو اکثر مذاق اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کئی گواہ سامنے آنے سے ہچکچاتے ہیں۔

ایک اور تاریخی رپورٹ 1955 کے واقعے سے متعلق ہے، جب امریکی سینیٹر رچرڈ رسل جونیئراور ان کے ساتھیوں نے سابق سوویت یونین میں ٹرین کے سفر کے دوران دو پراسرار ’’اڑن طشتری نما‘‘ اشیا دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی حکام نے ان گواہوں کو ’’انتہائی معتبر ذرائع‘‘ قرار دیا تھا۔

فائلوں میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ تباہ ہونے والی اڑن طشتریوں کا ملبہ متعدد مواقع پر برآمد کیا گیا، جن میں ایسے نامعلوم دھاتیں بھی شامل تھیں جن کا زمین پر وجود نہیں۔ تاہم سب سے حیران کن حصوں میں اُن بیانات کو قرار دیا گیا جن میں ان خلائی جہازوں کے ممکنہ مکینوں سے ملاقاتوں کا ذکر موجود تھا۔

دستاویز میں کہا گیا کہ ’’چند عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان اشیا سے اترنے والے عملے کے ارکان کو دیکھا۔‘‘ ان مخلوقات کو’’ساڑھے تین سے چار فٹ قد‘‘ کا حامل بتایا گیا، جو بظاہر ’’خلائی لباس اور ہیلمٹ‘‘ پہنے ہوئے تھے۔

امریکا میں کئی دہائیوں سے خلائی مخلوق پر مبنی فلمیں بنائی جارہی ہیں جن میں اس بات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے کہ خلائی مخلوق جدت اور ٹیکنالوجی میں انسانی دنیا سے بہت آگے ہیں اور ان جاری کردہ فائلز سے بھی کچھ ایسا ہی ثابت ہوتا ہے۔

کئی محققین یہ دعوی کر چکے ہیں کہ کچھ امریکی ادارے کسی نہ کسی طور ہر خلائی مخلوق سے رابطے میں ہیں تاہم سرکاری طور پر اب تک اس کہ تصدیق نہیں کہ گئی۔ اس معاملے میں ریسرچ میں شامل کئی سائنس دانوں کی خفیہ اموات بھی ہو چکی ہیں تاہم پینٹاگون کے مطابق اب تک کہ تمام ریکارڈز ایک خصوصی ویب پورٹل پر جاری کیے گئے ہیں جہاں آئندہ بھی مزید خفیہ فائلیں مرحلہ وار عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/dHsJSzY

Post a Comment

0 Comments