واشنگٹن (18 مئی 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف سمندر میں شروع کیے گئے پراجیکٹ فریڈم کو پاکستان کی درخواست پر روکا گیا۔
مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم روکنے سے ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، اس لیے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے امریکا نے پراجیکٹ فریڈم بند کر دیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کشیدگی کو کم کرنے کی امریکی کوششوں کے باوجود، ایرانی فورسز نے گزشتہ ہفتے امریکی تباہ کن جہازوں پر فائرنگ کی۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے لیکن ایران کے اندر تقسیم ترقی کو سست کر رہی ہے۔
U.S. Secretary of State Marco Rubio said "Project Freedom” was paused at the request of #Pakistan to give diplomacy with #Iran a chance. Despite U.S. efforts to de-escalate, Iranian forces fired on American destroyers last week. Rubio said Washington still prefers a diplomatic… pic.twitter.com/BOptXHANu7
— Neelotpal Srivastav (@NS_Neelotpal) May 17, 2026
واضح رہے کہ ایران امریکا میں مستقل جنگ بندی اور خطے میں امن کے مشن پر وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں جہاں انھوں نے ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان سے ون آن ون ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات بھی ہوئی۔ ایرانی صدر نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دینے پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا پڑوسی ملکوں نے اپنی سرزمین کی اجازت نہ دے کر امریکا اور اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
’ایران فوری فیصلہ کرے ورنہ ان کے پاس کچھ نہیں بچےگا‘
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی تازہ ترین صورت حال اور باہمی دل چسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے سفارتی روابط اور باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/gzaTBsV

0 Comments