دمشق (10 مئی 2026): شام میں بشارالاسد دور کے مظالم میں ملوث سابق صدارتی معاون میجر جنرل وجیہہ علی العبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

شامی حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ سابق صدر بشار الاسد کے دور میں ہونے والے مظالم میں مبینہ طور پر ملوث عسکری امور کے سابق ڈائریکٹر میجر جنرل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شام کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے ایک ’تیز رفتار سیکیورٹی آپریشن‘ کے دوران میجر جنرل وجیہ علی العبداللہ کو گرفتار کیا۔

وزارت کے مطابق العبداللہ معزول صدر بشار الاسد کے دور میں 13 برس تک صدارتی محل میں عسکری امور کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا۔


ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ


بیان میں العبداللہ کو ’سابق حکومت کے قریبی حلقے کے اہم ستونوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنے عہدے کے دوران شامی شہریوں کے خلاف ’جابرانہ اقدامات اور سنگین خلاف ورزیوں‘ میں رابطہ کاری اور کردار ادا کیا۔

تحقیقات کے مطابق العبداللہ نے 2005 سے 2018 تک یہ عہدہ سنبھالے رکھا، اور وزارت نے اس عرصے کو شام کی حالیہ تاریخ کا ’خوں ریز ترین دور‘ قرار دیا ہے۔ یہ گرفتاری شام کی سابق فوجی اور سیکیورٹی شخصیات کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جن پر شامی انقلاب کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

جمعے کے روز شامی حکام نے جنرل خردل احمد دیوب کو بھی گرفتار کیا تھا، جن پر دمشق کے قریب مشرقی غوطہ میں ہونے والے کیمیائی حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس سے قبل حکام نے امجد یوسف کو حراست میں لیا تھا، جس پر 2013 میں دمشق کے علاقے التضامن میں ہونے والے قتلِ عام کو انجام دینے کا الزام ہے۔

تقریباً 25 برس تک شام پر حکمرانی کرنے والے بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روس فرار ہوگئے تھے، جس کے ساتھ ہی 1963 سے قائم بعث پارٹی کی دہائیوں پر محیط حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں صدر احمد الشرع کی قیادت میں ایک عبوری انتظامیہ قائم کی گئی۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/auJvlZx