واشنگٹن : امریکا نے ایران پر نیا وار کرتے ہوئے چین کو ایرانی تیل پہنچانے والی 9 کمپنیوں اور 3 شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔
اس حوالے سے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت ایران کی 3 شخصیات اور 9 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔،
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل کی چین منتقلی میں معاونت کے الزام میں تین افراد اور نو کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان میں قائم ادارے شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیاں ان افراد اور کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو پاسدران انقلاب (آئی آر جی سی) کے لیے ایرانی تیل کی فروخت اور ترسیل میں سہولت فراہم کر رہے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب فرنٹ اور شیل کمپنیوں کے ذریعے چین کو تیل فروخت کر کے رقوم وصول کرتی رہی ہے۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران پر دباؤ مزید بڑھاتی رہے گی تاکہ ایرانی حکومت اور فوج کو اسلحہ، جوہری پروگرام اور خطے میں اتحادی گروپوں کی معاونت کے لیے مالی وسائل سے محروم کیا جاسکے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ہانگ کانگ کی “ہانگ کانگ بلیو اوشن لمیٹڈ”، “ہانگ کانگ سانمو لمیٹڈ”، دبئی کی “اوشن الیانز شپنگ ایل ایل سی”، “بلانکا گڈز ہول سیلر ایل ایل سی”، “یونیورسل فارچیون ٹریڈنگ ایل ایل سی”، شارجہ کی “اٹک انرجی ایف زیڈ ای” اور عمان کی “زیوس لاجسٹکس گروپ” شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے 2025 کے دوران ایرانی تیل کی ترسیل کے لیے پابندی زدہ “شیڈو فلیٹ” ٹینکرز کے استعمال میں سہولت فراہم کی، جبکہ بعض کمپنیوں نے ایرانی تیل کی خریداری کے معاہدے بھی کیے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/HY3Eose

0 Comments