تہران (23 اپریل 2026): ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف قانونی کیس تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کیس کو بین الاقوامی فورمز پر لے جانے کی تیاری میں مصروف ہے۔
تہران نے سائنسی مراکز پر حملوں کی دستاویزات جمع کرنا شروع کر دیں، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صدارتی شعبہ قانونی امور کے ذریعے کیس تیار کیا جا رہا ہے، اس جنگ کے دوران ایران کی 20 سے زائد یونیورسٹیاں متاثر ہوئی ہیں۔
ایرانی نائب صدر نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران ماہرین تعلیم کو نشانہ بنا کر ملک کی سائنسی بنیادیں کمزور کی جا رہی ہیں، سائنسی و تعلیمی ڈھانچے پر حملے علم اور ترقی پر حملہ ہیں۔
نائب صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں انسانی وسائل کی تربیت اور مستقبل کی ترقی کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی شواہد، ماہرین کی رپورٹس اور زمینی ثبوت جمع کرنا شروع کر دیا گیا ہے، تمام شواہد عالمی اداروں میں پیش کیے جائیں گے۔
میری درخواست پر ایران نے 8 خواتین کی سزائے موت روک دی، ٹرمپ کا دعویٰ
دریں اثنا، ایران اور امریکا کے درمیان رکے ہوئے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے سے متعلق کوئی ٹھوس اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہو سکتا ہے، نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 36 سے 72 گھنٹوں میں ایران کے ساتھ بات چیت کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر آ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ایران نے مذاکرات اور معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کرتا رہے گا، لیکن دنیا آپ کی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور عمل میں تضاد دیکھتی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/KtXF3zu

0 Comments