(11 مارچ 2026): ایران نے تنگ آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو گزرنے سے باز رکھنے کیلیے بارودی سرنگیں بھچا دیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تقریباً ایک درجن بارودی سرنگیں نصب کی ہیں، اس اقدام سے اس تنگ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کیلیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
ایران کے ساحل کے ساتھ واقع اس اسٹریٹجک مقام سے تیل اور ایل این جی کی برآمدات امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 12 دن قبل شروع کی گئی جنگ کی وجہ سے عملی طور پر رک چکی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
بدھ کے روز ایرانی فوجی کمانڈ نے کہا کہ دنیا کو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کیلیے تیار رہنا چاہیے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
ذرائع نے بتایا کہ زیادہ تر بارودی سرنگوں کے مقامات معلوم ہیں تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ امریکا ان سے نمٹنے کیلیے کیا منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سی این این نے سب سے پہلے منگل کے روز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے جانے کی اطلاع دی تھی۔
ایران طویل عرصے سے یہ دھمکی دیتا آیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی حملے کا بدلہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر لے گا۔
عام طور پر عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے اور اس راستے سے جہاز رانی روکنے کی ایرانی صلاحیت اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک بڑا ہتھیار فراہم کرتی ہے۔
گزشتہ روز امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس کی فوج نے ایران کے بارودی سرنگیں بچھانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور ان میں سے 16 کو تباہ کر دیا گیا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/zlekD6O

0 Comments