واشنگٹن (08 فروری 2026): ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکا نے بحیرہ عرب میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’’سینٹکوم‘‘ کے مطابق طیارہ بردار بحری بیڑا ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘ نے 2 فوجی سپلائی بحری جہازوں اور امریکی کوسٹ گارڈ کے 2 بحری جہازوں کے ہمراہ بحیرہ عرب میں سفر کیا۔
سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس دوران امریکی فضائی ونگ کے طیاروں نے پروازیں بھی کیں، سینٹکوم نے اس مشترکہ بحری سفر کو آپریشنل تیاریوں کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے اسے ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ کے طور پر پیش کیا۔
The Abraham Lincoln Carrier Strike Group, accompanied by two military supply ships, and two U.S. Coast Guard cutters, sailed together in the Arabian Sea today as aircraft from Carrier Air Wing 9 flew overhead. Peace through Strength!
pic.twitter.com/xkiCk8qymB
— U.S. Central Command (@CENTCOM) February 6, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران بھی اب سنجیدگی سے معاہدہ چاہتا ہے، انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اب سینٹکوم کی جانب سے ایکس پر اس بیڑے کے سفر کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مسقط مذاکرات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی، جب کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سلطنت عمان میں ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات ’’آمنے سامنے‘‘ تھے، ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت 8 گھنٹے تک جاری رہی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق جمعے کے مذاکرات ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق کسی مفاہمت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/v5yCjgr

0 Comments