Header Ads Widget

Responsive Advertisement

ایران اپنے حساس مقامات کی حفاظت کیسے کر رہا ہے؟ سیٹلائٹ تصاویر دیکھیں

تہران (19 فروری 2026): ایران اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی حفاظت کیسے کر رہا ہے سیٹلائٹ تصاویر نے اس کی جھلک پیش کر دی ہے۔

اسرائیل سے حالیہ جنگ اور امریکا سے شدید تناؤ کے بعد امریکی حکام ایران پر کسی بھی وقت حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں تہران نے اپنے فوجی اور ایٹمی حساس مقامات کی حفاظت کے لیے کیا فول پروف انتظامات کیے ہیں۔ اس کی ایک جھلک سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر نے دکھا دی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق ماہرین اور تحقیقی مراکز نے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ عرصے کے دوران اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی قلعہ بندی کی ہے۔

A satellite image shows tunnel entrances covered with soil at Isfahan nuclear complex

اس عمل میں کنکریٹ کے ڈھانچے کی تعمیر، سرنگوں کے داخلی راستوں کو چھپانا اور سابقہ بمباری کا نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی تعمیرِ نو شامل ہے۔

A satellite image shows ongoing efforts to harden and strengthen a facility's two tunnel entrances near Nantanz

رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور واشنگٹن کی جانب سے تہران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی کوششوں کے درمیان کیے جا رہے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔

A combination picture of satellite images shows Shiraz South Missile Base before reconstruction and after reconstruction

تصاویر سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک حساس فوجی مقام پر نئی تنصیب کے اوپر کنکریٹ کی ڈھال بنائی گئی ہے جسے بعد میں مٹی سے ڈھانپ دیا گیا۔

A combination picture of satellite images shows a new roof over a building damaged by an airstrike and the same site before renovation at Qom missile base

اس کے علاوہ ایک ایٹمی مقام پر سرنگوں کے راستوں کو مٹی تلے دبایا گیا ہے جس پر گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے بمباری کی تھی۔

A combination picture of satellite images of a site at the Parchin military complex from October, 2024 to February, 2026, in Parchin

ایک اور مقام کے قریب سرنگوں کے راستوں کو مضبوط بنایا گیا ہے اور تنازع کے دوران نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی مرمت کی گئی ہے۔

جن حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی قلعہ بندی کی گئی ہے، اس کی فہرست دی جا رہی ہے۔

1۔ ارچین فوجی کمپلیکس

پارچین کمپلیکس تہران سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے ایران کے حساس ترین فوجی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

2۔ اصفہان کمپلیکس کی سرنگوں کے راستے

اصفہان کمپلیکس ایران میں یورینیم کی افزودگی کی ان تین تنصیبات میں سے ایک ہے جن پر جون میں امریکا نے بمباری کی تھی۔ اس کمپلیکس میں ایٹمی ایندھن کے سائیکل کی تنصیبات کے علاوہ ایک زیرِ زمین علاقہ بھی ہے جہاں سفارت کاروں کے مطابق ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم ذخیرہ ہے۔

3۔ شیراز جنوبی میزائل اڈہ

اسرائیلی "ایلما” ریسرچ سینٹر کے مطابق یہ اڈہ شیراز سے 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور ان 25 اہم اڈوں میں سے ایک ہے جو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال کی جنگ کے دوران اس مقام کی سطحِ زمین پر معمولی نقصان پہنچا تھا۔

4۔ قم میزائل اڈہ

مرکز "ایلما” کے مطابق یہ اڈہ قُم شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور اسے درمیانے درجے کا نقصان پہنچا تھا۔

5۔ نطنز کے قریب سرنگوں کی قلعہ بندی

یہ بھی ایران کا اہم فوجی مقام ہے، جس کے گرد قلعہ بندی کی گئی ہے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/JMsLlWV

Post a Comment

0 Comments