Header Ads Widget

Responsive Advertisement

33ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے والی خاتون کی ناقابلِ یقین داستان

33ہزار فٹ کی بلندی سے بغیر پیراشوٹ گر کر زندہ بچ جانے والی خوش قسمت خاتون کا نام وسنا وولوویچ ہے جن کا نام گنیز بک آگ ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا۔

درحقیقت یہ اپنی نوعیت کا عجیب عالمی ریکارڈ ہے جس میں کوئی 33 ہزار 330 فٹ کی بلندی سے بغیر پیراشوٹ کے گر کر کر زندہ بچ گیا ہو۔

وسنا وولوویچ پیشے کے اعتنارسے سربیا کی ایک ائیر ہوسٹس تھیں جو 26 جنوری 1972 کو ایک فضائی حادثے میں جہاز کے ٹوٹنے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچ گئیں۔

26جنوری 1972 کی ایک سرد شام ویسنا وولوویچ معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر تھیں، وہ جے اے ٹی یوگوسلاو ایئر لائنز کی پرواز 367 میں بطور فضائی میزبان سوار تھیں۔ اس وقت ویسنا کی عمر 22 سال تھی اور انہیں ائیرہوسٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے 8 ماہ ہی ہوئے تھے۔

یہ پرواز سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم سے سربیا کے دارالحکومت بلغراد جا رہی تھی اور راستے میں اس کا گزر اس وقت کے چیکوسلواکیہ (موجودہ جمہوریہ چیک) کی فضاؤں سے ہونا تھا، لیکن یہ سفر اپنی منزل تک کبھی نہ پہنچ سکا۔

دوران پرواز سامان رکھنے والے حصے میں اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور یہ مسافر جہاز تین حصوں میں تقسیم ہوگیا، مسافر اور عملہ شدید سردی اور ہوا کے دباؤ کے باعث فضا میں بکھر گئے لیکن جہاز میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے سوائے ایک فضائی میزبان کے۔

 Guinness World Records

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویسنا دراصل اس پرواز کیلیے مقرر نہیں تھیں۔ ایئرلائن نے انہیں اسی نام کی دوسری میزبان سمجھ کر ڈیوٹی لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ 23 سالہ ویسنا اس غلطی کے باعث اس طیارے میں سوار ہوئیں اور تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

وہ ظیارے کے ٹکڑے ہونے کے بعد کھانے کی ایک ٹرالی میں پھنس گئی تھیں اور چیکوسلاوکیہ کے ایک علاقے میں گری تھیں، جہاں انہیں مقامی دیہاتی اور سابق فوجی میڈک برونو ہونکے نے ملبے سے چیخوں کی آواز سنی۔ اس نے ابتدائی طبی امداد دے کر ویسنا کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

33,333فٹ کی بلندی سے گرنے کے باوجود برف کی موٹی تہہ اور زمین سے ٹکرانے کا زاویہ بھی ان کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوا۔

ڈاکٹروں کے مطابق کیبن کا دباؤ ختم ہوتے ہی ان کا بلڈ پریشر تیزی سے گرگیا تھا، وہ بے ہوش ہوگئیں اور یہی بے ہوشی ان کے دل کو دھماکے سے پھٹنے سے بچا گئی۔

برف کی موٹی تہہ اور زمین سے ٹکرانے کا زاویہ بھی ان کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوا۔ ڈاکٹروں کے مطابق کیبن کا دباؤ ختم ہوتے ہی ان کا بلڈ پریشر تیزی سے گر گیا، وہ بے ہوش ہوگئیں اور یہی بے ہوشی ان کے دل کو دھماکے سے پھٹنے سے بچا گئی۔

تاہم ان کی حالت تشویشناک تھی۔ کھوپڑی میں فریکچر، دو ٹانگیں ٹوٹی ہوئی، ریڑھ کی ہڈی کے تین مہرے متاثر، پسلیاں اور کولہے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور جسم کا نچلا حصہ عارضی طور پر مفلوج ہوگیا تھا یعنی وہ موت کے بہت قریب سے واپس آئیں۔

وہ کئی دن کومے میں رہیں مگر دس ماہ بعد وہ دوبارہ چلنے کے قابل ہوگئیں، اگرچہ عمر بھر ہلکی لنگڑاہٹ ان کا مقدر بنی رہی۔ حیران کن طور پر انہیں حادثے یا اس کے بعد کے مہینے سے متعلق کوئی یادداشت نہیں تھی۔

1985میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں بغیر پیراشوٹ سب سے زیادہ بلندی سے زندہ بچنے کا عالمی ریکارڈ دیا۔ یہ اعزاز انہیں پال میک کارٹنی نے پیش کیا جو ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا، کیونکہ وہ بچپن سے بیٹلز کی مداح تھیں۔

سرکاری تحقیقات کے مطابق طیارے کے سامان والے حصے میں بریف کیس بم رکھا گیا تھا، شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ حملہ کروشین قوم پرست تنظیم سے وابستہ عناصر نے کیا۔ تاہم بلیک باکس کے ڈیٹا سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طیارہ واقعی 33 ہزار فٹ کی بلندی سے گرا تھا۔

دسمبر 2016 میں 66 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا مگر ان کی داستان آج بھی دنیا کو حیران کرتی ہے۔33ہزار فٹ کی بلندی سے گر کر زندہ بچنے والی یہ خاتون آج بھی عزم، بقا اور معجزاتی زندگی کی علامت سمجھی جاتی۔

 



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/jgKH47X

Post a Comment

0 Comments