واشنگٹن(31 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو میں کہا کہ امید ہے ایران کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو جائے گا۔ ہم کسی معاہدہ پر پہنچ جاتے ہیں تو اچھا ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے معاہدہ نہیں ہوتا تو دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے، صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ صرف ایران ہی یقینی طور پر جانتا ہے کہ اسے معاہدہ کرنے کے لیے کیا ڈیڈ لائن دی ہے۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ چند روز کے دوران کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں کی دھمکیاں عراق جنگ کی تیاریوں جیسی گونج رکھتی ہیں۔
اپنے بیان میں البرادعی نے کہا کہ یکطرفہ دھمکیاں ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح یا موجود خطرہ نظر نہیں آرہا اور یہ صورتحال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پرحملوں کی دھمکیاں عراق جنگ کی تیاریوں جیسی گونج رکھتی ہیں، ایسا ہی عراق کیخلاف غیر اخلاقی اور غیرقانونی جنگ سے پہلے کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی زندگی اور علاقائی تباہی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا، ہم کبھی سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/IDqhbGo

0 Comments