ہیلسنکی : فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں پولیس نے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کا انکشاف کیا ہے، جہاں ایک 80 سالہ بزرگ کو گزشتہ 20 سال سے ایک اندھیرے اور تاریک تہہ خانے میں قید رکھا گیا تھا۔
بازیاب ہونے والے اس بزرگ کے جہنم نما کمرے میں نہ کھڑکی نہ بیت الخلا تھا، نہ کھانا پکانے کی سہولت اور نہ ہی صفائی کا کوئی انتظام موجود تھا، انہیں انتہائی غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا۔
ہیلسنکی پولیس کے مطابق بزرگ کی حالت انتہائی کمزور اور ان پر نقاہت طاری تھی ان کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، جس کے بعد انہیں مقامی اسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔
فن لینڈ کے مقامی نشریاتی ادارے کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بزرگ تقریباً 20 سال سے اسی تہہ خانے میں رہنے پر مجبور تھے، یہ بازیابی پیر کے روز اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے شمالی ہیلسنکی میں واقع ایک گھر کی کسی اور وجہ سے تلاشی لی۔
اس بازیابی کے سلسلے میں تقریباً 60 سالہ دو مرد اور ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔
پولیس کے تحقیقاتی افسر کے مطابق بزرگ نے ابتدا میں رضاکارانہ طور پر اس گھر میں رہائش اختیار کی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت بگڑتی چلی گئی۔
بزرگ کی حالت سامنے آنے کے بعد پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے پہلو سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ ملزمان نے بزرگ کی کمزوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھایا ہو یا اس کی کوشش کی ہو۔
مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق غالب امکان یہ ہے کہ شاید اس بزرگ کو اس حالت میں مالی فائدے کے لیے رکھا گیا ہو۔ زیرِ تفتیش افراد بھی اس بات پر حیران ہیں کہ انہیں کس جرم میں مشتبہ قرار دیا جارہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اور متاثرہ بزرگ آپس میں رشتہ دار تو نہیں ہیں تاہم یہ دونوں ایک دوسرے کو طویل عرصے سے جانتے ضرور تھے۔
تحقیقاتی افسر کے مطابق ہم یہ جاننے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بزرگ اس گھر تک کیسے پہنچے، اور کن حالات میں وہاں رہے اور اتنے طویل عرصے تک اس قدر خراب حالت میں کیسے زندہ رہے۔
پولیس کے مطابق طبی امداد ملنے کے بعد بزرگ کی حالت کافی بہتر ہے، تاہم تحقیقات بدستور جاری ہیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ بزرگ کتنے عرصے تک تہہ خانے میں رہے اور آیا واقعی کوئی قابلِ سزا جرم سرزد ہوا یا نہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/3KunIXk

0 Comments