واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ کی کوششوں کی وجہ سے روس اور یوکرین اولیشکی شہر میں جنگ بندی پر رضامند ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات، اسٹیون چیونگ نے یوکرین کے علاقے خیرسون کے شہر اولیشکی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو یوکرین میں تنازع کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے 23 اکتوبر کو جاری کردہ معلومات کے مطابق، روس اور یوکرین اولیشکی میں جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ مقامی جنگ بندی 29 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگی۔
ایران نے اپنی خفیہ ڈرون فیکٹری کی جھلک دکھا دی
فریقین اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر رضامند ہو گئے ہیں تاکہ انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے اور ایک مخصوص محفوظ راہداری کے ذریعے شہریوں کے انخلا کی تیاری کی جا سکے، یو این رپورٹ کے مطابق لڑائی کے باعث اولیشکی شہر میں 1700 کے قریب شہری محصور ہو چکے ہیں۔
ادھر خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اولیشکی کی صورت حال انتہائی خراب ہے، شہر ایک فرنٹ لائن جنگی شہر ہے جو تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جنگ بندی کے دوران پھنسے شہریوں کا انخلا کیا جائے گا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/JKYoZjF

0 Comments