Header Ads Widget

Responsive Advertisement

سعودی عرب پر حملہ کرنے والے اعلیٰ عراقی فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا گیا

بغداد: سعودی عرب میں ڈرون حملوں پر عراقی حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے اعلیٰ عراقی فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

عراقی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے اعلامیے کے مطابق تحقیقات میں سعودی عرب پر حملوں کا تعلق عراق سے ثابت ہوا، جس کے بعد عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کو برطرف کر دیا۔

برطرف کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی آپریشنز کی نگرانی کر رہا تھا، عراقی نیوز ایجنسی کے مطابق، مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف الزیدی نے میسان میں آپریشنز کے سربراہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اعظم نے میسان آپریشنز کمانڈ کے حوالے سے تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ حکومت کے ترجمان صباح النعمان نے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب عہدیداروں کو معلوم ہوا کہ سعودی عرب کے خلاف حملے میسان صوبے کے اندر واقع ایک مقام سے کیے گئے تھے۔

عراق سے بھی امریکی و اتحادی افواج کا انخلا شروع

ان حملوں کے بعد عراقی اور سعودی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں علاقائی سلامتی پر گفتگو کی گئی، عراقی وزیر اعظم نے جوابی کارروائی نہ کرنے کے سعودی عرب کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ عراق ایسی کسی بھی کارروائی کو قبول نہیں کرے گا جو ملکی سلامتی یا اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈالے، اور نہ ہی وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو دوسرے ممالک کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے استعمال ہونے دے گا۔

جمعے کو عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین نے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں جانب سے علاقائی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل رابطہ کاری اور اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملہ ہوا تھا، جس کے بارے میں ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ عراق سے آنے والے متعدد ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔ اس واقعے میں لوگ زخمی ہوئے اور نقصان بھی ہوا، جس کے بعد سعودی حکام نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کی سرگرمیاں روک دیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ بغداد نے عراقی سرزمین سے مزید حملے روکنے اور تحقیقات کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، اور سعودی عرب نے اس مرحلے پر جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/lCHtrA8

Post a Comment

0 Comments