دبئی : قطری وزارت خارجہ نے ایرانی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے اس کے کسی پائلٹ کو گرفتار یا حراست میں نہیں لیا۔
اس حوالے سے قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کی قطر واضح اور قطعی طور پر تردید کرتا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات پر قطر کو حیرت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطری امدادی ٹیموں نے لاپتا ایرانی پائلٹس کی تلاش کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح انجام دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تلاش کے دوران ایک پائلٹ کی لاش ملنے کے بعد قطر نے ایرانی حکام سے رابطہ کرکے باقیات کی حوالگی کے لیے رابطہ کاری بھی کی۔
We categorically deny the claims circulating regarding the detention of Iranian pilots & are surprised by these misleading statements at this particular time, amid the ongoing diplomatic efforts & initiatives aimed at de-escalating tensions in the region.
We reaffirm that…
— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) August 15, 2026
قطری ترجمان نے مزید بتایا کہ قطر نے اپریل میں ایرانی حکام کو باضابطہ دعوت دی تھی کہ ایک ایرانی ٹیم قطر کا دورہ کرکے پائلٹس کی تلاش اور امدادی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہی حاصل کرے، تاہم ایرانی فریق نے تاحال اس دعوت کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقرزاده نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ کے دوران3 ایرانی پائلٹس زندہ حالت میں قطری فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق یہ پائلٹس اس وقت لاپتا ہوئے جب ان کے ایس یو 24 جنگی طیارے گر کر تباہ ہوئے تھے۔
قطر کی جانب سے اس دعوے کی واضح تردید کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پائلٹس سے متعلق متضاد بیانات سامنے آگئے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Um9QxLZ

0 Comments