واشنگٹن (18 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت (اپروول ریٹنگ) کی شرح کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جب سے انھوں نے صدارت سنبھالی ہے تب سے اب تک کی یہ کم ترین سطح ہے۔
پیر کو مکمل ہونے والے روئٹرز اور اِپسوس کے چار روزہ سروے کے مطابق صرف 33 فی صد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری دیتے ہیں، جب کہ 64 فی صد نے اسے مسترد کر دیا۔
ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اس ماہ اگست کے اوائل میں مکمل ہونے والے ایک سروے میں 35 فی صد تھی، جو اب مزید کم ہو کر ان کی موجودہ مدتِ صدارت کے دوران کسی بھی وقت کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ یہ شرح اب ان کی سابقہ مدتِ صدارت کے دوران دسمبر 2017 میں پہنچنے والی کم ترین سطح کے برابر ہو گئی ہے۔
2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے وقت ملک کے نصف سے ذرا کم لوگوں کی جانب سے ان کی صدارت کی منظوری کے باوجود، اس سال ٹرمپ کی مقبولیت کو اس وقت دھچکا لگا جب انھوں نے امریکا کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا حکم دیا۔
ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع نے عالمی تیل کی تجارت کے پانچویں حصے کو مفلوج کر دیا، جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو گیا۔ یہ اضافہ امریکی گھرانوں پر دباؤ ڈال رہا ہے اور ان ریپبلکن اتحادیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے جو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کی تصدیق کردی، فاکس نیوز کا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگوں سے بچنے کے وعدے کیے تھے، اور ابتدا میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایران نے مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت کو بڑی حد تک بند رکھا ہے، حالاں کہ تنازع کی شدت میں کمی آئی ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً 80 فی صد امریکی (جن میں 87 فی صد ڈیموکریٹس اور 71 فی صد ریپبلکنز شامل ہیں) سمجھتے ہیں کہ ایران جنگ میں امریکا کی شمولیت ’’طویل عرصے تک جاری رہے گی۔‘‘ صرف 16 فی صد نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔
سروے کے مطابق صرف 5 میں سے 1 امریکی (اور صرف نصف ریپبلکنز) سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ لڑنا قابلِ قدر تھا۔ اس ماہ اگست کے سرویز سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار ووٹرز معیشت کی بہتر نگرانی کرنے والی جماعت کے طور پر ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تازہ ترین سروے میں 38 فی صد ووٹرز کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹس معیشت کو بہتر انداز میں سنبھالیں گے، جب کہ 35 فی صد نے ریپبلکن طریقۂ کار کو ترجیح دی۔ ڈیموکریٹس کو زندگی گزارنے کے اخراجات سے نمٹنے کے لیے بھی زیادہ موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی پوری مدتِ صدارت کے دوران امیگریشن کے معاملے میں ریپبلکن طریقۂ کار ڈیموکریٹس کے طریقۂ کار سے زیادہ مقبول رہا ہے۔ اس کی وجہ سرحد پر آمدورفت میں نمایاں کمی اور ٹرمپ کے حکم پر ملک بھر میں جاری سخت کریک ڈاؤن ہے۔ تاہم مہلک جھڑپوں اور زیرِ حراست افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی تعداد میں اضافے کے باعث ریپبلکنز اس معاملے پر حمایت کھو رہے ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 40 فی صد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ریپبلکنز کا طریقۂ کار بہتر ہے، جب کہ 38 فی صد نے ڈیموکریٹس کو منتخب کیا۔ یہ 2 فی صد پوائنٹس کا فرق ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے دوران اب تک کا سب سے کم فرق ہے۔ جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو اس معاملے پر 26 فی صد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/MFkIrfS

0 Comments