تہران(28 اگست 2026): امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
شپنگ کمپنی کپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز اس اہم راستے سے صرف پانچ مال بردار جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے۔ شپنگ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے سترہ جہاز گزرے تھے، جبکہ گزشتہ دس دنوں کے دوران اس راستے سے روزانہ اوسطاً پندرہ مال بردار جہاز گزرتے رہے ہیں۔
کپلر کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز گزرنے والے جہازوں میں دو درمیانے درجے کے آئل ٹینکرز اور ایک بڑا گیس کیریئر بھی شامل تھا۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کی یہ تعداد حتمی نہیں ہے اور اس میں تبدیلی ممکن ہے کیونکہ خطے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بعض بحری جہاز سفر کے دوران اپنے ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا جا سکے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ بحران کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی رس رسد اور سپلائی چین کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/nYCdRrP

0 Comments