نئی دہلی : بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سرکاری ملازمتوں سے محرومی نے ایک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی جان لے لی گھر سے پھندے پر لٹکی لاش ملی۔
اتر پردیش کے شہر کانپور سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ بی ٹیک گولڈ میڈلسٹ آنند کمار تقریباً 50 مختلف سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں شرکت کے باوجود کامیاب نہ ہو سکا، جس کے بعد اس نے انتہائی قدم اٹھالیا۔
پولیس کے مطابق آنند کمار کا خاندان بڑے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقے بہار گیا ہوا تھا۔ اس دوران گھر کی ملازمہ معمول کے مطابق کام پر پہنچی، مگر متعدد بار دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی جواب نہ ملا۔ بعد ازاں پڑوسیوں اور پولیس کو اطلاع دی گئی، جنہوں نے دروازہ کھول کر نوجوان کی لاش برآمد کی۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے ایک تحریری نوٹ میں آنند کمار نے لکھا کہ مجھے معاف کر دیں، میں نے سرکاری ملازمت کے لیے تقریباً 50 بار کوشش کی، مگر ہر بار ناکام رہا۔”

متوفی کے والد راج کمار جو ایک تعمیراتی کمپنی سے ریٹائرڈ ملازم ہیں، نے بتایا کہ آنند نے کانپور کے پرن ویر سنگھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ٹیک کیا تھا اور بہترین کارکردگی پر ریاستی گورنر آنندی بین پٹیل سے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا تھا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آنند نے پاور گرڈ کارپوریشن میں ایک سالہ اپرنٹس شپ بھی کی، تاہم بھرپور کوششوں کے باوجود وہ سرکاری ملازمت حاصل نہ کرسکا۔
اہل خانہ کے مطابق آنند نے ریلوے، اسٹاف سلیکشن کمیشن، بینکنگ اور محکمہ تعلیم سمیت مختلف اداروں کے تقریباً 50 انٹرویوز اور امتحانات دیے، لیکن ہر بار ناکامی نے اسے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں روزگار کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جہاں اعلیٰ تعلیم اور نمایاں تعلیمی کامیابیوں کے باوجود لاکھوں نوجوان مناسب ملازمت سے محروم ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور شفاف و بروقت بھرتیوں کے دعوؤں کے باوجود بے روزگاری مسلسل نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/2NaXEGA

0 Comments