سنگاپور (27 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر امریکا اور ایران نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دیں، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 5 فی صد تک گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 فی صد کم ہو کر 91.38 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جب کہ کاروبار کے آغاز میں یہ مختصر طور پر 90 ڈالر کی اہم تکنیکی حد سے بھی نیچے آ گئی تھی۔
ایران کا یوکرین کو بحری جہاز پر حملے کا جواب دینے کا اعلان
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 5.46 فی صد کمی کے بعد اس کی قیمت 84.43 ڈالر فی بیرل رہی۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مسلسل اضافے کے بعد دونوں معاہدے تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کیوں کہ یہ تنازع آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پھیل گیا تھا۔ اس کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جب کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہو گئیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/wUTyaY0

0 Comments