نیویارک : امریکا کی کئی ریاستوں میں پراسرار وبا کے خوف سے ریستوران ویران ہونے لگے، اس صورتحال نے پورے فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا میں سائیکلو سپوریاسس نامی پراسرار وبا کے خوف سے بند گوبھی کی فروخت میں نمایاں کمی آگئی، ریستورانوں پر بھی گاہکوں کا رش بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
وبا کے پھیلتے ہوئے کیسز نے لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے باعث نہ صرف گروسری اسٹورز میں لیٹش کی فروخت متاثر ہوئی ہے بلکہ سلاد پر انحصار کرنے والے کئی معروف ریسٹورنٹس میں بھی گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں تحقیقات کے دوران دھنیا اور اجمود (پارسلے) بھی متاثرہ افراد کی خوراک میں مشترک اجزا کے طور پر سامنے آئے ہیں، تاہم صحت حکام کا کہنا ہے کہ بیماری کے ذرائع ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
تجزیاتی ادارے پلیسر اے آئی کے مطابق 23 جولائی کو ٹاکو بیل میں گاہکوں کی آمد معمول کے مقابلے میں 20.8 فیصد کم رہی۔ اسی روز چوپٹ میں 12.2 فیصد، پنیرا بریڈ میں 3.1 فیصد جبکہ چپوٹلے میکسیکن گرل میں 1.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق صارفین کی بڑی تعداد احتیاطاً تازہ لیٹش اور پتوں والی سبزیوں کی خریداری سے گریز کر رہی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ کمپنی نیلسین آئی کیو کے اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا میں تازہ لیٹش کی فروخت ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں 9 فیصد اور دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں 19 فیصد کم رہی۔
واضح رہے کہ امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اس پراسرار وبا کو آئس برگ لیٹش سے جوڑا ہے جو ٹاکو بیل کے ریسٹورنٹس میں آنے والے گاہکوں کو پیش کی گئی تھی، یہ لیٹش میکسیکو کے وسطی علاقے میں موجود ٹیلر فارمز کے فارموں سے حاصل کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ممکنہ طور پر متاثرہ تمام مصنوعات مارکیٹ سے واپس لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود بیماری کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سائیکلوسپوریاسس ایک پیراسائٹک بیماری ہے جو آلودہ خوراک یا ایسے پانی کے استعمال سے پھیلتی ہے جس میں سائیکلوسپورا نامی جرثومہ موجود ہو۔ جو صرف خورد بین سے ہی دیکھا جاسکتا ہے، یہ پراسرار وبا عموماً اسہال، پیٹ درد اور دیگر ہاضمے کی شکایات کا باعث بنتی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/QYpHuDg

0 Comments