سڈنی : آسٹریلیا کے ساحل پر ملنے والی پراسرار چاندی جیسی گیندوں کا معمہ حل ہوگیا، ماہرین نے حقیقت بیان کردی۔
سمندر کے گہرے پانیوں میں قدرت کی شاہکار اور حیرت انگیز مخلوقات کا مشاہدہ ہم اکثر ٹی وی اسکرینز اور دیگر ذرائع سے کرتے رہتے ہیں۔
آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کے ساحلی علاقے فورسٹ بیچ پر گزشتہ چند روز کے دوران ساحل پر نمودار ہونے والی پراسرار چاندی جیسی دھاتی گیندوں کا معمہ بالآخر حل ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ دھاتی گولے دراصل راکٹ کے ایندھن کے دباؤ والے ٹینک ہیں، شہری انہیں بالکل ہاتھ نہ لگائیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دوران مجموعی طور پر چھ دھاتی گولے ساحل پر بہہ کر آئے، جنہیں دیکھ کر مقامی انتظامیہ، فائر فائٹرز، ہنگامی امدادی اداروں اور خلائی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
احتیاطاً پانچ گیندوں کو خصوصی ڈرموں میں منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے تقریباً 160 فٹ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا کیونکہ ابتدا میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ اشیا زہریلی ہوسکتی ہیں۔
The Australian Space Agency is advising Queensland authorities and the National Emergency Management Agency following the discovery of several unidentified objects at Forrest Beach. pic.twitter.com/43BeUNBCWK
— Australian Space Agency (@AusSpaceAgency) July 6, 2026
مقامی رہائشی کے مطابق ابتدائی طور پر ان دھاتی گولوں کو عام سمندری بُوئے سمجھا گیا، تاہم جب بڑی تعداد میں پولیس، فائر سروس، ایمبولینس اور دیگر ادارے ساحل پر پہنچے تو معاملہ غیر معمولی محسوس ہونے لگا۔
بعد ازاں آسٹریلوی خلائی ایجنسی نے وضاحت کی کہ یہ اشیا غالباً "اسپیس بالز” ہیں، جو راکٹوں میں استعمال ہونے والے ہائیڈرازین ایندھن کے دباؤ والے گول ٹینک (پریشرائزڈ فیول ٹینکس ) ہوتے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق ان اشیا کی ساخت اور مقام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کسی غیر ملکی راکٹ کے ملبے کا حصہ ہیں جو حال ہی میں مدار سے زمین کی فضا میں داخل ہوا۔
خلائی ایجنسی نے مزید بتایا کہ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ یہ ملبہ کس ملک اور کس لانچ وہیکل سے تعلق رکھتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق ہائیڈرازین ایک انتہائی طاقتور مگر خطرناک کیمیائی مادہ ہے جو کئی دہائیوں سے راکٹ ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
راکٹ کے چھوٹے تھرسٹرز میں یہی ایندھن مدار میں اس کی سمت اور بلندی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسی لیے اس کے ٹینک گول شکل میں بنائے جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واروک کے پروفیسر ڈان پولاکو کے مطابق یہ ٹینک غالباً سمندر میں گرے اور بعد ازاں لہروں کے ذریعے ساحل تک پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازے کے مطابق یہ ملبہ بھارتی یا چینی راکٹ کا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمین کا ماحول زیادہ تر خلائی ملبے کو جلانے میں کامیاب رہتا ہے، تاہم بعض مضبوط دھاتی حصے، خصوصاً ٹائٹینیم یا کمپوزٹ مواد سے بنے پریشر ویسل، جلنے سے بچ جاتے ہیں اور زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔
خلائی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات آسٹریلیا میں غیر معمولی نہیں رہے، کیونکہ ملک کا وسیع رقبہ اور بڑھتی ہوئی خلائی سرگرمیاں مستقبل میں ایسے واقعات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ سال 2022 میں اسپیس ایکس ڈریگن راکٹ کا ایک حصہ نیو ساؤتھ ویلز کے ساحل پر جبکہ 2023میں بھارتی راکٹ کا ایک پریشر ویسل مغربی آسٹریلیا میں بھی ملا تھا۔
آسٹریلوی خلائی ایجنسی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ اگر کسی کو خلائی ملبہ ملے تو اسے ہرگز ہاتھ نہ لگایا جائے، فوری طور پر مقامی حکام کو اطلاع دی جائے اور متعلقہ خلائی اداروں سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ بعض خلائی اشیا خطرناک مواد پر مشتمل ہوسکتی ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/kKqGWeQ

0 Comments