تہران (01 جولائی 2026): ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تیل، مرکزی بینک اور تیل کی فروخت سے متعلق تمام پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں، پابندیوں کے خاتمے کے بعد تیل کی فروخت کی رقم براہِ راست بینک میں وصول کر رہے ہیں۔
باقر قالیباف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے ٹول فری گزرنے کی سہولت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، تہران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے حقوق سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوگا، آبنائے پر خودمختاری ایران اور عمان کے پاس ہے، گزرگاہ ایران کے قوانین کے تحت چلے گی۔
انھوں نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور اسرائیل کی شکست کی دستاویز ہے، صہیونی حکومت مفاہمتی یادداشت کی شدید مخالف ہے، مفاہمتی یادداشت کے بعد اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے کیے، جس کے باعث سوئٹزرلینڈ جانا پڑا۔
کامیاب مذاکرات کی صورت میں ایران مستقل طور پر تبدیل ہو جائے گا، جے ڈی وینس
اسپیکر پارلیمنٹ نے کہا ہماری اہم ترجیح لبنانی جنگ بندی تھی، سوئٹزرلینڈ اجلاس کے بعد لبنان پر حملوں میں کمی آئی ہے، لبنان کی قومی خودمختاری کے لیے ایران، امریکا اور لبنان کی مشترکہ کمیٹی قائم ہوگی۔
باقر قالیباف نے چین کے حوالے سے کہا کہ بیجنگ پابندیوں کے دوران ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ خیال رہے کہ 2025 میں ایران کی 80 فی صد سے زائد تیل برآمدات چین کو گئیں۔ یہ خریداری زیادہ تر چینی نجی ریفائنریوں کے ذریعے رعایتی قیمتوں پر ہوتی تھی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/YmTUz3u

0 Comments