Header Ads Widget

Responsive Advertisement

ایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے، امریکی وزیر جنگ

واشنگٹن (22 جولائی 2026): امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اس ماہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد پہلی بار سینیٹ کی ایک اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی۔

پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی تخصیصی کمیٹی کو بتایا کہ ایران جنگ پر امریکا کے 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم سی این این سے پہلے بات کرنے والے ماہرین کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز کی حکمتِ عملی سے متعلق انھوں نے گواہی میں کہا کہ ہرمز سے بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی فوجی کارروائی مئی میں اس کے اعلان کے بعد بھی خفیہ طور پر جاری رہی۔ ان کے مطابق، اس کارروائی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے 50 کروڑ (500 ملین) بیرل تک تیل کی محفوظ ترسیل میں مدد دی گئی، جب کہ ایرانی حملوں کے باوجود امریکا نے وہاں اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔

روس اور چین کے کردار کے حوالے سے ہیگسیتھ نے کہا کہ چین اور روس مختلف سطحوں پر ایران کی بعض سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’اس کی روک تھام کے ہمارے پاس کئی طریقے ہیں… لیکن اس تعاون کی نوعیت اور حد ایسی معلومات ہیں جنھیں خفیہ ہی رہنا چاہیے۔‘‘


سعودی عرب بھی یورینیم افزودہ کر سکے گا؟ ٹرمپ نے سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی


ایران کے جوہری اہداف سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی فوج پک ایکس ماؤنٹین کے نیچے واقع مبینہ ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو ہیگسیتھ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری بہت سی صلاحیتیں خفیہ ہیں۔‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ امریکا اس ہدف کو ’’بہت جلد‘‘ نشانہ بنائے گا۔

امریکی وزیر جنگ نے اعتراف کیا کہ ہر ایرانی کشتی اور میزائل کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ناکہ بندی جاری رکھ سکتے ہیں، ایران کے جہازوں اور بندرگاہوں پر دباؤ برقرار ہے۔ انھوں نے کہا میں تسلیم کرتا ہوں ایران کے پاس اب بھی صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ہم نے ایران کو تاریخ کی بدترین صورت حال میں پہنچا دیا ہے۔

اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایک سخت نوک جھونک کے دوران مشیگن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز نے ہیگسیتھ کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں ناکام قرار دیا اور انتظامیہ کی جنگی حکمتِ عملی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک سینیٹر کرسٹن گِلِبرینڈ نے ہیگسیتھ سے جنگ کے جواز پر سخت سوالات کیے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہیگسیتھ نے ایران کی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت تباہ کرنے کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر جنگ ایران کے ساتھ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید دسیوں ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/LpGZ4B6

Post a Comment

0 Comments