واشنگٹن (09 جون 2026): امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جب کہ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکا کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کرے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں کئی ایسے معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات میں تعطل کا باعث بنے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورۂ تہران سمیت پاکستان کی سفارتی کوششوں نے دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے میں مدد دی ہے۔
اس پیش رفت کے باوجود ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کسی بھی معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ موجودہ تعطل کے خاتمے کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر واشنگٹن واقعی ایران کے ساتھ کسی وسیع تر امن معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے پہلے حسنِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے منجمد رقوم بحال کرنا ہوں گی۔
اسرائیل کے پاس کوئی چوائس نہیں، ایران سے معاہدہ تسلیم کرنا ہوگا، ٹرمپ
محسن رضائی نے کہا ’’اگر امریکا واقعی ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے تو اسے پہلے وہ 24 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے جو ایرانی عوام کے ہیں۔ یہ ایران کا پیسہ ہے، امریکا کا نہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق تہران کا مطالبہ ہے کہ عبوری معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد 12 ارب ڈالر جاری کیے جائیں جب کہ باقی 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی حکام اس تجویز پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر اثاثے بہت جلد بحال کر دیے گئے تو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے واشنگٹن کے پاس موجود ایک اہم سفارتی ہتھیار کمزور ہو جائے گا اور مستقبل میں ایرانی وعدوں کی پاسداری یقینی بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ مختلف ممکنہ فریم ورک کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے تحت ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی کے ساتھ ساتھ امریکا اپنی مذاکراتی برتری بھی برقرار رکھ سکے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی حملوں کے تبادلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ دونوں فریقوں کو جنگ بندی پر قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں وسیع جنگ کے خطرے کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تو تہران اسرائیلی اہداف پر ایک اور حملوں کی لہر شروع کر سکتا ہے، جس سے موجودہ جنگ بندی کی نازک صورت حال مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ، جو متعدد بار ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، نے حال ہی میں ایران اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ ’’فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے بند کریں‘‘ اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کو اندرونِ ملک بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین حالیہ اہم قانون سازی اور قراردادوں پر انتظامیہ کے مؤقف سے اختلاف کر چکے ہیں، جب کہ متعدد قانون ساز اہم ووٹنگ کے دوران غیر حاضر بھی رہے۔
اس کے علاوہ امریکا میں مہنگائی، سیاسی تقسیم، آئندہ وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں اور بعض روایتی اتحادی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات نے بھی وائٹ ہاؤس کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ادھر ایران بحران اور واشنگٹن و اسرائیلی قیادت کے درمیان مبینہ اختلافات کی اطلاعات بھی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اضافی چیلنج بن چکی ہیں۔ واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داخلی اور خارجی دباؤ کے اس امتزاج نے صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جلد از جلد کسی سفارتی پیش رفت حاصل کرنے کی خواہش کو مزید تقویت دی ہے تاکہ انتظامیہ آئندہ انتخابی مرحلے سے قبل اپنی توجہ داخلی معاملات پر مرکوز کر سکے۔
اگرچہ مذاکرات کئی ماہ کے مقابلے میں کسی معاہدے کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں، تاہم اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ موجودہ سفارتی پیش رفت کسی باضابطہ معاہدے کی شکل اختیار کر پاتی ہے یا نہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/3iZj6lI

0 Comments