Header Ads Widget

Responsive Advertisement

یورپ کے بعد امریکا میں بھی سوشل میڈیا استعمال پر قانون سازی کا فیصلہ

واشنگٹن(23 جون 2026): یورپی یونین کے بعد اب امریکا نے بھی نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے سخت قانون سازی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان  کی اہم کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگیولیٹ کرنے اور ان کی نگرانی سخت کرنے کے لیے ایک مشترکہ معاہدہ کر لیا ہے۔

امریکی ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اب بڑی ٹیک کمپنیوں کی من مانی نہیں چلے گی اور نوجوانوں کے ذہنی و جسمانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان کمپنیوں کو ہر صورت جوابدہ بنایا جائے گا۔ اس قانون سازی کا مقصد کم عمر صارفین کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات، سائبر بلینگ اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔

واضح رہے کہدنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین کی مرضی سے مشروط کی گئی ہے۔

آسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

چین میں بھی سائبر اسپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

یو اے ای میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر بڑی پابندی عائد



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/rKk2o89

Post a Comment

0 Comments